زرد چاند کی رات
ایک شاہکار اردو ناول - محبت، راز اور فتح کی مکمل داستان
📚 ناول کے مکمل ابواب
موسم خزاں کا پراسرار سفر
وہ پراسرار خاتون
قلعہ گم گشتہ کی پراسرار فضا
پہلی رات کی پراسرار واقعات
تاریک سرنگ میں
تاریک کوٹھڑی میں
زویا کی آمد
پہلی دفعہ قربت
رات کی خاموشی میں
صبح کی نئی امید
راز کی طرف سفر
سوتن کے کمرے میں
گرفتاری اور مذاکرات
منصوبہ بندی
خفیہ پیغام
فرار کا منصوبہ
زویا کی جدوجہد
واپسی اور آخری مقابلہ
حقیقت کا انکشاف
آخری جنگ
سچائی کا دن
ہمالیہ کی چوٹی پر وعدہ
شادی اور نئی زندگی
نئی ذمہ داری
مکمل خاندان
چوٹی پر واپسی
حصہ اول: جب دو راستے ملے
باب 1: موسم خزاں کا پراسرار سفر
عارف کی جیپ پہاڑی راستے پر ایک تنہا سیاہ لکیر کی مانند چل رہی تھی۔ ہوا میں خزاں کی سرد مہک تھی، جیسے قدرت خود کسی راز کے اظہار کا انتظار کر رہی ہو۔ درختوں سے گرتے زرد پتے ہوا کے جھونکوں میں ناچ رہے تھے، مگر عارف کے دل میں ایک عجیب بے چینی تھی۔ اسے ہمیشہ سے اکیلے مشنز پسند رہے تھے، مگر آج کی ملازمت اسے کچھ عجیب سی محسوس ہو رہی تھی۔
عارف نے کبھی نہیں پوچھا تھا کہ "خاص" سے کیا مراد ہے۔ وہ پیشے کے اعتبار سے سوالات نہیں کرتا تھا، صرف احکامات مانتا تھا۔ مگر آج، جب وہ قلعے کے قریب پہنچ رہا تھا، تو اس کے ذہن میں کئی سوال گھوم رہے تھے۔ کون سی لڑکی اپنے آپ کو تین دن کے لیے ایک ویران قلعے میں بند کرنا چاہتی ہے؟ اور کیوں؟
جیپ نے قلعے کے بڑے سے لوہے کے دروازے کے سامنے رکنا تھا۔ دروازے پر قدیم نقش و نگار تھے جو وقت کی مار سے مٹ چکے تھے۔ عارف نے جیپ سے باہر نکلا اور اردگرد نظر دوڑائی۔ فضا میں پراسرار خاموشی تھی، جیسے پوری دنیا سانس روکے کسی چیز کا انتظار کر رہی ہو۔
باب 2: وہ پراسرار خاتون
"کیا آپ عارف ہیں؟"
آواز اس قدر نرم اور شائستہ تھی کہ عارف کو لگا جیسے کوئی پرندہ بول رہا ہو۔ اس نے مڑ کر دیکھا۔ دروازے کے سائے میں ایک لڑکی کھڑی تھی۔ لمبے، گہرے بادامی رنگ کے بال جو ہوا میں لہرا رہے تھے۔ گوری رنگت، جس پر خزاں کی دھوپ سونے جیسا رنگ بکھیر رہی تھی۔ اور آنکھیں... وہ گہری بھوری آنکھیں جن میں عارف کو پہلی نظر میں ہی کئی کہانیاں دکھائی دیں۔
"جی، میں عارف ہوں۔ اور آپ زویا؟" عارف نے پیشہ ورانہ انداز میں جواب دیا۔
"ہاں۔ آپ بروقت پہنچ گئے۔" زویا نے مسکراتے ہوئے کہا، مگر اس کی مسکراہٹ میں ایک عجیب سی اداسی تھی۔ "آئیے، میرے پاس کام بہت ہے۔ مجھے آج رات تک پہلا کمرہ دریافت کرنا ہے۔"
زویا کے ہاتھ میں ایک پرانا کاغذ تھا جو شاید نقشہ تھا۔ اس کے کپڑے سادہ مگر صاف ستھرے تھے - کھاکی پینٹ اور ایک بڑی سویٹر جس پر مٹی کے دھبے تھے۔ عارف نے فوراً نوٹ کیا کہ وہ ماہر آثار قدیمہ ہونے کے باوجود بہت نازک اندام تھی، جیسے ہوا کے ایک جھونکے میں اڑ جائے گی۔
"وہ تو میں قلعے کے اندر لا چکی ہوں۔" زویا نے کہا۔ "آپ بس اپنا سامان لے آئیں۔"
عارف حیران رہ گیا۔ اس ویران قلعے میں وہ اکیلی سامان کیسے لا سکتی تھی؟ مگر اس نے کچھ نہیں کہا۔ وہ اپنا بیگ اٹھا کر قلعے کے اندر داخل ہوا۔
باب 3: قلعہ گم گشتہ کی پراسرار فضا
قلعے کا اندرونی حصہ عارف کی توقعات سے کہیں زیادہ وسیع اور پیچیدہ تھا۔ بلند دیواریں جن پر وقت نے اپنے نشان چھوڑے تھے۔ کھڑکیوں سے ٹوٹی ہوئی روشنی فرش پر عجیب شکلیں بنا رہی تھی۔ ہوا میں مٹی اور پرانے پتھر کی بو تھی۔
"میں نے آپ کے لیے کمرہ تیار کر رکھا ہے،" زویا نے کہا۔ "وہ راستے میں پہلا کمرہ ہے۔ میرے لیے بہتر ہوگا کہ میں تہہ خانے کے قریب والے کمرے میں رہوں۔"
"کیا یہ محفوظ ہے؟" عارف نے اس کے چہرے پر نظر ڈالی۔
عارف کو شک تھا مگر اس نے اعتراض نہیں کیا۔ وہ اپنے کمرے میں گیا جو سادہ تھا - ایک پرانی چارپائی، ایک میز اور کرسی۔ کھڑکی سے وہ قلعے کے احاطے کا نظارہ کر سکتا تھا جہاں قدیم درخت افسردہ سے کھڑے تھے۔
رات گئے، جب عارف سونے کی کوشش کر رہا تھا، اسے تہہ خانے کی طرف سے آوازیں سنائی دیں۔ وہ اٹھا اور آہستہ سے باہر آیا۔ زویا تہہ خانے میں تھی، اس کے ہاتھ میں ٹارچ تھی اور وہ دیواروں کو بہت غور سے دیکھ رہی تھی۔
"آپ کو سونے کی ضرورت ہے،" عارف نے دروازے پر کھڑے ہو کر کہا۔
زویا چونک گئی۔ "اوہ، آپ... میں نے آپ کو جگا دیا؟ معذرت۔"
"نہیں، میں پہلے سے جاگ رہا تھا۔" عارف اندر آیا۔ "کیا تلاش کر رہی ہیں؟"
"کچھ نہیں... یعنی، بس تحقیق۔" زویا کی آواز میں ہچکچاہٹ تھی۔
عارف نے محسوس کیا کہ وہ سچ نہیں بول رہی۔ مگر اس نے پوچھا نہیں۔ وہ واپس اپنے کمرے میں آیا اور رات بھر جاگتا رہا۔
باب 4: پہلی رات کی پراسرار واقعات
اگلی صبح، جب عارف اٹھا تو زویا پہلے سے ہی باہر تھی۔ وہ قلعے کے صحن میں کھڑی درختوں کو دیکھ رہی تھی۔
"صبح بخیر،" عارف نے کہا۔
"آپ کو درختوں سے دلچسپی ہے؟" عارف اس کے پاس آیا۔
"ہر چیز سے جو وقت کی مار سہہ سکے۔" زویا نے مڑ کر اسے دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک گہرا درد تھا۔ "میرے والد کہتے تھے کہ وقت سب سے بڑا ظالم ہے، مگر سب سے بڑا انصاف کرنے والا بھی۔"
"آپ کے والد..." عارف نے ہچکچاتے ہوئے کہا۔
"وہ نہیں رہے،" زویا نے فوراً کہا، جیسے اس جملے کو بار بار بولنے کی عادی ہو۔ "ایک حادثے میں۔"
عارف نے کچھ کہنے کی کوشش کی مگر زویا پہلے ہی چل دی تھی۔ "مجھے کام کرنا ہے۔ آپ اپنا وقت گزارئیے۔"
پورا دن زویا تہہ خانے میں گزارتی رہی۔ عارف نے قلعے کا چکر لگایا، حفاظتی انتظامات کا جائزہ لیا۔ شام کو، جب وہ باہر بیٹھا چائے پی رہا تھا، اچانک تہہ خانے سے ایک چیخ سنائی دی۔
عارف دوڑتا ہوا گیا۔ زویا ایک دیوار کے پاس کھڑی تھی، اس کا ہاتھ خون سے لت پت تھا۔
"کیا ہوا؟" عارف نے پوچھا۔
"کوئی... کوئی ہے یہاں،" زویا کانپ رہی تھی۔ "میں نے ایک آواز سنی۔ پھر یہ دیوار... یہ کھل گئی۔"
عارف نے فلیش لائٹ جلائی۔ دیوار کے پیچھے ایک تاریک سرنگ تھی جو نیچے کی طرف جاتی تھی۔
"یہاں سے نکلتے ہیں،" عارف نے کہا۔ مگر اس سے پہلے کہ وہ نکل پاتے، دیوار دوبارہ بند ہونے لگی۔ عارف نے زویا کو کھینچ کر باہر نکالا، مگر وہ خود اندر پھنس گیا۔
"عارف!" زویا کی آواز دیوار کے پار سے آئی۔
"میں ٹھیک ہوں!" عارف نے کہا۔ "باہر جاؤ! مدد لاؤ!"
مگر زویا نے انکار کر دیا۔ "نہیں! میں تمہیں چھوڑ کر نہیں جا سکتی!"
عارف نے ٹارچ جلائی۔ سرنگ نیچے کی طرف جارہی تھی۔ اس نے آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا۔ شاید دوسرا راستہ مل جائے۔
باب 5: تاریک سرنگ میں
چار گھنٹے تک عارف تاریک سرنگ میں بھٹکتا رہا۔ سرنگ میں ہوا کا گزر تھا، جس کا مطلب تھا کہ کوئی نہ کوئی راستہ باہر ضرور نکلتا تھا۔ آخرکار وہ ایک وسیع کمرے میں پہنچا۔
کمرے میں دیواروں پر قدیم مصوری تھی - راجے، رانیاں، جنگی مناظر۔ مگر عارف کی تربیت نے فوراً اسے بتا دیا کہ کچھ غلط تھا۔ کچھ مصوری نئی لگ رہی تھی۔
اس نے کمرے کا چکر لگایا۔ ایک کونے میں اسے کچھ چمکتی ہوئی چیز نظر آئی۔ ایک جدید چاقو، جس پر خون کے دھبے تھے۔ اور وہ خون تازہ لگ رہا تھا۔
عارف کا دل تیز دھڑکنے لگا۔ کوئی یہاں تھا۔ اور شاید اب بھی تھا۔
اسی لمحے اسے پیچھے سے آواز آئی۔ "سوچا تھا تم ہی آؤ گے۔"
عارف نے مڑ کر دیکھا۔ دروازے پر ایک لمبا، دبلا پتلا مرد کھڑا تھا۔ اس کی عمر پچاس کے قریب ہوگی۔ چہرہ سخت، آنکھیں بے رحم۔
"تم کون ہو؟" عارف نے پوچھا۔
"میں وہ ہوں جسے تم ڈھونڈ رہے ہو۔" مرد نے مسکراتے ہوئے کہا۔ "میرا نام ریحان ہے۔ اور تم عارف، سابقہ کپتان عارف۔ تمہاری شہرت تو میں نے سن رکھی تھی۔"
عارف نے اپنے آپ کو تیار کیا۔ "زویا کہاں ہے؟"
"کیا مطلب؟"
"زویا کے والد نے ایک چیز چھپائی تھی۔ میں اسے سالوں سے ڈھونڈ رہا ہوں۔ اور اب، تم دونوں کی مدد سے، میں اسے پا لوں گا۔"
عارف نے حملہ کرنے کا فیصلہ کیا، مگر اسی لمحے اسے پیچھے سے دھکا لگا۔ وہ گر گیا۔ اس سے پہلے کہ وہ اٹھتا، اس کے ہاتھ پیر باندھ دیے گئے۔
"آرام سے، کپتان،" ریحان نے کہا۔ "تمہاری ضرورت ابھی ختم نہیں ہوئی۔"
حصہ دوم: قید اور محبت کا آغاز
باب 6: تاریک کوٹھڑی میں
عارف نے آنکھیں کھولیں تو وہ ایک چھوٹی سی کوٹھڑی میں تھا۔ ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے تھے۔ روشنی کا واحد ذریعہ ایک چھوٹی سی کھڑکی تھی جو بہت اوپر تھی۔
اس نے اپنے آس پاس دیکھا۔ کوٹھڑی خالی تھی، سوائے کچھ پرانے ڈبوں کے۔ اس نے اپنے ہاتھ کھولنے کی کوشش کی مگر رسیاں مضبوط تھیں۔
دریچہ کھلا اور ریحان اندر آیا۔ "جاگ گئے؟ اچھا۔"
"زویا کہاں ہے؟" عارف نے غصے سے پوچھا۔
"تمہارے دماغ خراب ہیں۔"
"شاید۔ مگر تمہیں معلوم ہے، عارف،" ریحان نے کہا، "زندگی عجیب ہوتی ہے۔ تم یہاں صرف ایک محافظ بن کر آئے تھے، مگر اب تم خود محتاج محافظ بن گئے ہو۔"
ریحان نے ایک کرسی پر بیٹھ کر سگریٹ سلگائی۔ "چلو تمہیں سب کچھ بتاتا ہوں۔ زویا کے والد، ڈاکٹر شجاع، میرے دوست تھے۔ ہم نے مل کر نوادرات کی کھوج کی۔ مگر ایک دن، اس نے ایک چیز دریافت کی جو سب سے قیمتی تھی۔ اور اس نے مجھے بتانے سے انکار کر دیا۔"
"کیوں؟"
عارف نے غصے سے دیکھا۔ "تم نے اسے مار ڈالا۔"
"نہیں، یہ حادثہ تھا۔ سچ میں۔" ریحان کی آواز میں ایک عجیب سا جھول تھا۔ "مگر زویا کو یقین نہیں ہوا۔ اور اب، وہ اسے ڈھونڈ رہی ہے۔ وہ چیز جو اس کے والد نے چھپائی تھی۔"
"اور تم سمجھتے ہو کہ میں تمہاری مدد کروں گا؟"
"نہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ زویا تمہاری مدد سے میری مدد کرے گی۔" ریحان نے کہا۔ "کیونکہ اگر تمہاری جان خطرے میں ہوگی، تو وہ کچھ بھی کرے گی۔"
اور وہ چلا گیا، دروازہ بند کرتا ہوا۔
باب 7: زویا کی آمد
کئی گھنٹے گزر گئے۔ عارف نے کوٹھڑی کا ہر انچ چھان مارا، مفر کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ وہ تھک کر بیٹھ گیا۔
اچانک اسے کھڑکی سے آواز آئی۔ "عارف؟"
عارف نے اوپر دیکھا۔ زویا کا چہرہ کھڑکی میں نظر آیا۔ "زویا! تم یہاں کیسے؟"
کچھ دیر بعد دروازہ کھلا اور زویا اندر آئی۔ اس کے ہاتھ میں چاقو تھا۔ اس نے عارف کی رسیاں کاٹ دیں۔
"چلو، جلدی کرو،" زویا نے کہا۔ "وہ لوگ واپس آئیں گے۔"
وہ کوٹھڑی سے نکلے۔ باہر ایک لمبا راستہ تھا جو اوپر جا رہا تھا۔ "یہ راستہ قلعے کے پچھلے حصے میں نکلتا ہے،" زویا نے بتایا۔ "مجھے معلوم ہے کیونکہ میرے والد نے نقشے پر نشان لگایا تھا۔"
"تمہیں سب کچھ معلوم تھا،" عارف نے کہا۔ "تمہیں معلوم تھا کہ یہ خطرناک ہے۔"
زویا رک گئی۔ "ہاں، مجھے معلوم تھا۔ مگر مجھے تمہاری ضرورت تھی۔ تمہاری حفاظت کی۔"
"کیوں؟"
وہ راستے پر چلنے لگے۔ کچھ دیر بعد وہ ایک غار جیسی جگہ میں پہنچے جہاں قدرتی روشنی آ رہی تھی۔
"یہاں ہم آرام کر سکتے ہیں،" زویا نے کہا۔ "وہ ہمیں ابھی نہیں ڈھونڈ سکتے۔"
باب 8: پہلی دفعہ قربت
عارف بیٹھ گیا۔ اس کے جسم میں درد تھا۔ زویا نے اپنے بیگ سے پانی کی بوتل اور کچھ کھانا نکالا۔
"کھاؤ،" اس نے کہا۔ "تمہیں طاقت کی ضرورت ہے۔"
عارف نے کھانا لیا۔ "تمہیں یہ سب کیسے معلوم؟ یہ راستے، یہ جگہیں؟"
"مگر تم نے خود کو خطرے میں ڈالا۔"
"کیونکہ... کیونکہ میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتی تھی۔" زویا نے اچانک کہہ دیا، پھر شرما گئی۔
عارف نے اس کے چہرے پر نظر ڈالی۔ روشنی اس کے چہرے پر پڑ رہی تھی، اس کی آنکھوں میں چمک تھی۔ اس نے محسوس کیا کہ اس کا دل تیز دھڑک رہا ہے۔
"زویا..." عارف نے کہا۔
"نہیں، کچھ مت کہو،" زویا نے کہا۔ "ابھی نہیں۔ ابھی ہم محفوظ نہیں ہیں۔"
عارف نے ہاں میں سر ہلایا۔ مگر اس کے اندر کچھ بدل چکا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اب وہ صرف ایک محافظ نہیں رہا۔ کچھ اور بن چکا تھا۔
باب 9: رات کی خاموشی میں
رات ہو گئی۔ غار میں سردی تھی۔ زویا کانپ رہی تھی۔
"تمہیں سردی لگ رہی ہے،" عارف نے کہا۔
"ہاں، تھوڑی سی۔"
عارف نے اپنا جیکٹ اتار کر اسے دے دیا۔ "پہن لو۔"
"مگر تمہیں سردی لگ جائے گی۔"
"میں فوجی ہوں، مجھے عادی ہوں۔"
زویا نے جیکٹ پہنی، پھر اچانک عارف سے لپٹ گئی۔ "مجھے ڈر لگ رہا ہے، عارف۔ مجھے ڈر ہے کہ کچھ برا ہو جائے گا۔"
عارف نے اسے اپنے قریب کھینچ لیا۔ "میں تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا۔ وعدہ ہے۔"
وہ اس طرح بیٹھے رہے، ایک دوسرے کو تھامے۔ وقت گزرتا رہا۔ عارف نے محسوس کیا کہ زویا سو گئی ہے۔ اس کے بال اس کے چہرے پر بکھرے ہوئے تھے۔ اس نے آہستہ سے اس کے بال سنوارے۔
اس لمحے، عارف نے جان لیا کہ وہ محبت میں گر چکا ہے۔ وہ محبت جس کے بارے میں اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔ وہ محبت جو خطرے کے بیچ میں پیدا ہوئی تھی۔
باب 10: صبح کی نئی امید
صبح ہوئی تو زویا نے آنکھیں کھولیں۔ وہ عارف کے سینے پر سر رکھے سوئی تھی۔ اس نے اٹھنا چاہا مگر عارف نے اسے روک لیا۔
"ابھی نہیں،" عارف نے کہا۔ "ابھی صبح ہوئی ہے۔"
"ہمیں چلنا چاہیے،" زویا نے کہا۔
"ہاں، مگر پہلے تمہیں بتانا چاہتا ہوں۔" عارف نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ "زویا، تم میرے لیے محض ایک کلائنٹ نہیں رہیں۔ تم... تم خاص ہو۔"
زویا کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ "عارف، میں تمہیں بتانا چاہتی ہوں کہ میں کیوں یہاں ہوں۔ میں سچ بتانا چاہتی ہوں۔"
"بتاؤ۔"
عارف نے اسے مضبوطی سے تھام لیا۔ "معاف کرنا، مجھے نہیں معلوم تھا۔"
"میں نے کسی کو نہیں بتایا۔ کیونکہ ریحان طاقتور ہے۔ اس کے دوست ہر جگہ ہیں۔" زویا نے کہا۔ "مگر میرے والد نے ایک چیز چھپائی تھی۔ ایک ایسی چیز جو ریحان کو تباہ کر سکتی ہے۔ اور وہ یہیں ہے، اس قلعے میں۔"
"کیا چیز؟"
"ایک ہار۔ قدیم ہار جو تاریخی اعتبار سے بہت قیمتی ہے۔ مگر اس سے بھی زیادہ، اس میں ایک راز ہے۔ ایک ایسا راز جو ریحان کے تمام گناہوں کو بے نقاب کر سکتا ہے۔"
عارف نے سوچا۔ "اور تم اسے ڈھونڈنا چاہتی ہو۔"
"ہاں۔ اور میں چاہتی ہوں کہ تم میری مدد کرو۔" زویا نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا۔ "مگر صرف اس لیے نہیں کہ میں تمہیں استعمال کرنا چاہتی ہوں۔ بلکہ اس لیے کہ... کیونکہ میں تم پر بھروسہ کرتی ہوں۔"
عارف نے مسکراتے ہوئے کہا: "تمہیں معلوم ہے، فوج میں ہمیں سکھایا جاتا ہے کہ کبھی کسی پر مکمل بھروسہ مت کرو۔ مگر تمہارے معاملے میں، میں یہ اصول توڑنے کو تیار ہوں۔"
اور انہوں نے ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالا۔ اب وہ اکیلے نہیں تھے۔ اب وہ ایک ٹیم تھے۔
حصہ سوم: راز کی طرف سفر
باب 11: راز کی طرف سفر
عارف اور زویا غار سے نکلے تو سورج پورے زوروں پر تھا۔ پہاڑی راستہ کٹھن تھا، ہر قدم پر چٹانوں اور جھاڑیوں سے گزرنا پڑتا۔ زویا نے نقشہ نکالا جو اس کے والد نے بنایا تھا - پرانا کاغذ جس پر لکیریں اور نشان ابھی تک واضح تھے۔
"ہمیں مغرب کی طرف جانا ہے،" زویا نے کہا۔ "یہ نقشہ بتاتا ہے کہ ہار قلعے کے مغربی حصے میں ہے، ایک ایسی جگہ جسے 'سوتن کا کمرہ' کہتے ہیں۔"
"سوتن کا کمرہ؟" عارف نے حیرت سے پوچھا۔
"اور ہار وہیں ہے؟"
"میرے والد کو یقین تھا۔ انہوں نے اپنے نوٹس میں لکھا تھا: 'سچ چھپا ہے محبت کے کمرے میں'۔"
وہ چلتے رہے۔ دو گھنٹے بعد، وہ ایک چٹان کے سامنے پہنچے جس پر قدیم رسم الخط میں کچھ لکھا ہوا تھا۔
"یہ سنسکرت ہے،" زویا نے کہا۔ "'جو تلاش کرتا ہے، وہ پاتا ہے۔ مگر صرف وہی جو دیکھ سکتا ہے وہ جو دکھائی نہیں دیتا'۔"
عارف نے چٹان کو غور سے دیکھا۔ "شاید یہ کوئی خفیہ دروازہ ہے۔"
اس نے چٹان پر ہاتھ پھیرا۔ اچانک اسے ایک جگہ محسوس ہوئی جو دوسری جگہوں سے مختلف تھی۔ اس نے دبایا تو چٹان کا ایک حصہ اندر کی طرف دھنس گیا اور ایک دروازہ کھل گیا۔
"تم نے کر دکھایا!" زویا خوشی سے چیخ اٹھی۔
باب 12: سوتن کے کمرے میں
دروازے کے پیچھے سیڑھیاں تھیں جو نیچے جا رہی تھیں۔ ہوا میں نمی تھی اور خوشبو دار۔
"یہ خوشبو..." زویا نے کہا۔ "یہ صندل کی لکڑی کی ہے۔ پرانے وقتوں میں امیر لوگ اپنے کمرے میں صندل رکھتے تھے۔"
سیڑھیاں ختم ہوئیں تو وہ ایک کمرے میں پہنچے جو حیرت انگیز طور پر محفوظ تھا۔ دیواریں رنگین مصوری سے سجی تھیں۔ ایک طرف ایک پرانا بستر تھا، دوسری طرف الماریاں۔
"یہ وہ جگہ ہے،" زویا نے ہلکی آواز میں کہا۔ "میرے والد نے اس کا ذکر کیا تھا۔"
عارف نے کمرے کا جائزہ لیا۔ "ہار کہاں ہو سکتا ہے؟"
زویا نے الماریوں کو چیک کیا۔ ایک الماری کے پیچھے اسے ایک چھوٹا سا بٹن ملا۔ اس نے دبایا تو دیوار کا ایک حصہ کھل گیا جس کے پیچھے اچھی طرح بند ڈبہ تھا۔
ڈبہ کھولا تو اندر ریشم میں لپٹا ہار تھا۔ سونے کی موٹی زنجیر جس میں جواہرات جڑے تھے۔ درمیان میں نیلا پتھر جو چمک رہا تھا۔
"یہی ہے،" زویا کی آواز کانپ رہی تھی۔ "یہ وہی ہار ہے جس کی تصویر میرے والد نے بنائی تھی۔"
عارف نے ہار اٹھایا۔ یہ بہت وزنی تھا۔ "اب کیا؟"
"اب ہمیں اسے محفوظ جگہ لے جانا ہے۔ ریحان کو معلوم ہو جائے گا کہ ہم نے ڈھونڈ لیا ہے۔"
مگر اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ دروازے پر آواز آئی۔ "بہت خوب۔ تم نے میرا کام کر دیا۔"
ریحان اپنے دو آدمیوں کے ساتھ وہاں کھڑا تھا۔
باب 13: گرفتاری اور مذاکرات
عارف نے زویا کو اپنے پیچھے کھڑا کر لیا۔ "تمہیں یہ ہار نہیں ملے گا۔"
"اوہ، مجھے ملے گا،" ریحان نے مسکراتے ہوئے کہا۔ "کیونکہ تمہارے پاس انتخاب نہیں ہے۔"
اس کے ایک آدمی نے بندوق تان لی۔
"مت مارنا انہیں،" ریحان نے کہا۔ "انہیں زندہ رہنے دو۔ مجھے ان کی ضرورت ہے۔"
عارف نے صورتحال کا جائزہ لیا۔ وہ تین تھے، ان کے پاس ہتھیار تھے۔ لڑنا خطرناک تھا۔
"ہار لے لو،" عارف نے کہا۔ "مگر زویا کو جانے دو۔"
"نہیں،" زویا نے احتجاج کیا۔ "میں تمہارے ساتھ رہوں گی۔"
ریحان ہنسا۔ "دیکھو، محبت کا مظاہرہ۔ بہت پیارا۔ چلو، دونوں کو لے چلو۔"
انہیں واپس قلعے کی طرف لے جایا گیا۔ اس بار ایک مضبوط کوٹھڑی میں ڈالا گیا۔ دروازے پر تالا تھا، کھڑکی باہر نہیں جاتی تھی۔
باب 14: منصوبہ بندی
رات ہو گئی۔ عارف اور زویا کوٹھڑی میں بیٹھے تھے۔
"میں معافی چاہتا ہوں،" عارف نے کہا۔ "میں تمہیں بچا نہ سکا۔"
"تم نے اپنی پوری کوشش کی،" زویا نے کہا۔ "اب ہمیں مل کر کوئی راستہ ڈھونڈنا ہوگا۔"
عارف نے کمرے کا جائزہ لیا۔ "یہ دروازہ مضبوط ہے۔ کھڑکی چھوٹی ہے۔"
"مگر ہم ہار نہیں دیں گے،" زویا نے کہا۔ "میرے والد نے مجھے ہار نہ دیا ہوتا اگر وہ نہ چاہتے کہ میں اسے بچاؤں۔"
اس نے ہار کو دوبارہ دیکھا۔ نیلا پتھر عجیب طرح سے چمک رہا تھا۔
"کیا تمہیں لگتا ہے کہ اس پتھر میں واقعی کوئی راز ہے؟" عارف نے پوچھا۔
"میرے والد نے کہا تھا کہ یہ پتھر خاص ہے۔ اس میں کچھ چھپا ہے۔" زویا نے پتھر کو غور سے دیکھا۔ "انتظار کرو... یہاں کچھ لکھا ہوا ہے۔"
پتھر کے کنارے پر بہت ہی باریک حروف تھے۔ زویا نے انہیں پڑھنے کی کوشش کی۔
"روشنی میں؟" عارف نے پوچھا۔
"شاید سورج کی روشنی میں؟"
صبح ہوئی تو سورج کی کرنیں کھڑکی سے اندر آئیں۔ زویا نے ہار کو روشنی میں رکھا۔ اچانک کچھ حیرت انگیز ہوا۔
پتھر سے روشنی کی کرنیں نکل کر دیوار پر پڑیں اور الفاظ بن گئے۔ یہ ایک قسم کا خفیہ پیغام تھا۔
باب 15: خفیہ پیغام
دیوار پر جو الفاظ ظاہر ہوئے وہ سنسکرت میں تھے۔ زویا نے ان کا ترجمہ کیا:
وہ جو ڈھونڈے گا وہ پائے گا
مگر صرف اس کی ہمت کی قیمت پر
یہ ہار نہیں محض زیور
یہ گواہ ہے ان بے گناہوں کے خون کا
جنہیں طمع نے مارا
اور اب وہ بولے گا عدالت میں
جب روشنی اسے چھوئے گی"
"یہ ثبوت ہے،" زویا نے ہلکی آواز میں کہا۔ "میرے والد نے کہا تھا کہ یہ ہار ریحان کے جرائم کا ثبوت ہے۔"
"کیسے؟"
"شاید ہار کے اندر کچھ ہے۔ کوئی دستاویز۔" زویا نے ہار کو دیکھا۔ "دیکھو، نیلا پتھر ہلکتا ہے۔"
اس نے پتھر کو دبایا تو وہ کھل گیا۔ اندر ایک چھوٹی سی رول تھی - پرانا کاغذ جس پر لکھا ہوا تھا۔
زویا نے کاغذ کھولا۔ اس پر نام تھے، تاریخوں تھیں، رقم کے لین دین کی تفصیلات تھیں۔
"یہ ریحان کا ریکارڈ ہے،" زویا نے کہا۔ "نوادرات کی اسمگلنگ، رشوت، سب کچھ۔ میرے والد نے یہ سب جمع کیا تھا۔"
"اور اسے ہار میں چھپا دیا،" عارف نے کہا۔ "اب ہمارے پاس ثبوت ہے۔"
"مگر ہمیں یہاں سے نکلنا ہوگا۔"
حصہ چہارم: آخری مقابلہ
باب 16: فرار کا منصوبہ
عارف نے کوٹھڑی کا جائزہ لیا۔ "کھڑکی چھوٹی ہے مگر شاید ہم نکل سکتے ہیں۔"
"مگر باہر آدمی ہوں گے،" زویا نے کہا۔
"رات کو موقع ملے گا۔"
رات گئے، جب سب سو گئے، عارف نے کھڑکی کا جائزہ لیا۔ وہ اتنی چھوٹی تھی کہ صرف ایک شخص نکل سکتا تھا۔
"پہلے تم جاؤ،" عارف نے کہا۔
"نہیں، میں تمہارے بغیر نہیں جاؤں گی۔"
"مگر وہ تمہیں مار ڈالیں گے۔" زویا نے کہا۔
"نہیں، وہ مجھے زندہ رکھیں گے کیونکہ انہیں ہار چاہیے۔ اور ہار تمہارے پاس ہے۔"
زویا نے ہچکچاتے ہوئے ہار عارف کو دیا۔ "یہ لے لو۔ اگر وہ ہار دیکھیں گے تو تمہیں نہیں ماریں گے۔"
عارف نے ہار لے لیا۔ "اب جاؤ۔ جلدی کرو۔"
زویا نے کھڑکی پر چڑھنے کی کوشش کی۔ وہ تنگ تھی، مگر وہ نکل گئی۔
عارف نے دعا کی کہ وہ محفوظ رہے۔
باب 17: زویا کی جدوجہد
زویا باہر نکلی تو اندھیرا تھا۔ چاند نکلا ہوا تھا۔ اسے قلعے سے دور جانا تھا۔
وہ پہاڑی راستے پر دوڑی۔ پاؤں زخمی ہو گئے، مگر وہ رکی نہیں۔ اسے عارف کو بچانا تھا۔
کئی گھنٹے دوڑنے کے بعد، وہ ایک چھوٹے سے گاؤں میں پہنچی۔ وہاں اس نے ایک فون کی تلاش کی۔
ایک گھر میں روشنی تھی۔ زویا نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ ایک بوڑھا آدمی باہر آیا۔
"مدد چاہیے،" زویا نے ہانپتے ہوئے کہا۔ "پولیس۔"
بوڑھے آدمی نے اسے اندر بلایا۔ فون دیا۔ زویا نے پولیس کو کال کی۔
پولیس نے وعدہ کیا کہ وہ آ رہی ہے۔ مگر زویا کو معلوم تھا کہ انہیں پہنچنے میں وقت لگے گا۔
"مجھے واپس جانا ہے،" زویا نے کہا۔ "میرا دوست وہاں ہے۔"
"بیٹی، یہ خطرناک ہے،" بوڑھے آدمی نے کہا۔
"میں جانتا ہوں، مگر میں اسے چھوڑ کر نہیں آ سکتی۔"
باب 18: واپسی اور آخری مقابلہ
زویا نے بوڑھے آدمی سے چاقو مانگا۔ اور وہ واپس قلعے کی طرف دوڑی۔
اس وقت تک صبح ہونے والی تھی۔ قلعے میں ہلچل تھی۔ شاید انہیں معلوم ہو گیا تھا کہ زویا بھاگ گئی ہے۔
زویا نے خاموشی سے قلعے میں داخل ہونے کا راستہ ڈھونڈا۔ وہ واپس اسی کوٹھڑی کے قریب پہنچی جہاں عارف تھا۔
دروازے پر دو آدمی تھے۔ زویا نے ایک پتھر اٹھایا اور دور پھینکا۔ آواز سن کر وہ دوڑے۔
زویا نے موقع غنیمت جانا اور دروازے کے پاس پہنچی۔ تالا تھا۔ اس نے چاقو سے تالا توڑنے کی کوشش کی۔
"کون ہے؟" اندر سے عارف کی آواز آئی۔
"میں ہوں، عارف۔ زویا۔"
"زویا! تم واپس کیوں آئیں؟"
زویا نے تالا توڑ دیا۔ دروازہ کھلا۔ عارف باہر آیا۔
"پولیس آ رہی ہے،" زویا نے کہا۔ "مگر ہمیں ریحان کو روکنا ہوگا۔"
اسی لمحے ریحان آ گیا۔ اس کے ہاتھ میں بندوق تھی۔
"بہت اچھا،" ریحان نے کہا۔ "اب تم دونوں یہاں ہو۔"
باب 19: حقیقت کا انکشاف
عارف نے زویا کو اپنے پیچھے کھڑا کیا۔ "یہ ختم ہو گیا، ریحان۔ پولیس آ رہی ہے۔"
"پولیس؟" ریحان ہنسا۔ "وہ میرے دوست ہیں۔"
"نہیں، یہ بار انہیں نہیں بچا سکے گا۔" عارف نے ہار اٹھایا۔ "ہمارے پاس ثبوت ہے۔ تمہارے تمام جرائم کا ریکارڈ۔"
ریحان کی آنکھوں میں غصہ آیا۔ "مجھے وہ ہار دو۔"
"نہیں۔"
عارف کا دل دھڑک اٹھا۔ "کیا کہا؟"
"تمہارا دوست، کپتان نعمان۔ اس کی موت حادثہ نہیں تھی۔ میں نے اسے مارا تھا۔"
"تم؟ کیوں؟"
"کیونکہ وہ میری اسمگلنگ کے بارے میں جان گیا تھا۔ اور تم... تم اس کے ساتھ تھے۔ تمہیں بھی مارنا تھا، مگر تم بچ گئے۔"
عارف کے اندر غصہ ابل پڑا۔ سالوں سے وہ اپنے دوست کی موت کا الزام خود پر لگاتا رہا۔ اور اب پتہ چلا کہ یہ قتل تھا۔
"تم... تم نے اسے مارا؟"
"ہاں۔ اور اب میں تمہیں بھی مار دوں گا۔"
باب 20: آخری جنگ
ریحان نے بندوق تانی۔ مگر عارف نے جلدی کی۔ وہ آگے بڑھا اور بندوق پر حملہ کیا۔
لڑائی شروع ہو گئی۔ ریحان کے آدمی آ گئے۔ عارف نے اپنی فوجی تربیت کا استعمال کیا۔ وہ تینوں کو بے ہوش کرنے میں کامیاب ہو گیا۔
مگر ریحان کے پاس دوسری بندوق تھی۔ اس نے نشانہ لیا۔
"عارف!" زویا چیخ اٹھی۔
عارف نے اچھل کر ریحان پر حملہ کیا۔ بندوق چلی مگر نشانہ خطا گیا۔
زمین پر لڑتے ہوئے، عارف نے ریحان کو قابو کر لیا۔
"تمہارا خاتمہ ہو گیا، ریحان۔"
اسی لمحے پولیس آ گئی۔ انہوں نے ریحان اور اس کے آدمیوں کو گرفتار کر لیا۔
"تم ٹھیک ہو؟" زویا دوڑتی ہوئی آئی۔
"ہاں،" عارف نے کہا۔ "تمہاری وجہ سے۔"
باب 21: سچائی کا دن
ایک ہفتے بعد۔ ریحان اور اس کے ساتھی جیل میں تھے۔ ہار اور اس میں چھپے ثبوتوں کی وجہ سے ان کے خلاف مقدمہ مضبوط تھا۔
عارف اور زویا پولیس اسٹیشن سے باہر آئے۔ سورج چمک رہا تھا۔
"اب کیا؟" زویا نے پوچھا۔
"اب ہم آزاد ہیں،" عارف نے کہا۔ "تمہارے والد کا انصاف ہو گیا۔"
"اور تمہارے دوست کا بھی۔"
"اور اب؟" زویا نے پوچھا۔
"اور اب میں تمہارے ساتھ ہوں۔ اگر تم چاہو تو۔"
زویا نے مسکراتے ہوئے کہا: "میں تو تمہارے ساتھ ہوں، عارف۔ ہمیشہ کے لیے۔"
باب 22: ہمالیہ کی چوٹی پر وعدہ
ایک ماہ بعد، عارف زویا کو ہمالیہ کی چوٹی پر لے گیا۔ وہی چوٹی جہاں وہ اپنے دوست کو یاد کرنے آیا کرتا تھا۔
"یہاں،" عارف نے کہا۔ "میں نے ہمیشہ یہاں آ کر سوچا کہ زندگی کیا ہے۔ مگر آج، تمہارے ساتھ، مجھے جواب مل گیا ہے۔"
"کیا جواب؟"
"میں بھی تم سے محبت کرتی ہوں، عارف۔ ہمیشہ سے کرتی تھی۔" زویا کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
اور انہوں نے چوٹی پر، برفیلے پہاڑوں کے سامنے، ایک دوسرے سے محبت کا وعدہ کیا۔
باب 23: شادی اور نئی زندگی
ان کی شادی قلعہ گم گشتہ میں ہوئی۔ اسی جگہ جہاں ان کی ملاقات ہوئی تھی۔ اب قلعہ میوزیم بن چکا تھا، اور ان کی شادی اس کی پہلی تقریب تھی۔
عارف نے وعدہ کیا: "میں تمہاری حفاظت کروں گا، ہمیشہ۔"
زویا نے جواب دیا: "اور میں تمہارا ساتھ دوں گی، ہر قدم پر۔"
وہ اسلام آباد میں رہنے لگے۔ عارف نے اپنا سیکیورٹی کاروبار شروع کیا۔ زویا یونیورسٹی میں پڑھانے لگی۔ ہر شام وہ گھر پر ملتے، ایک دوسرے کے دن کا احوال سنتے۔
باب 24: نئی ذمہ داری
دو سال بعد، زویا حاملہ ہوئی۔ عارف کی خوشی کی کوئی حد نہیں تھی۔
"ہم اچھے والدین بنیں گے،" عارف نے کہا۔
"ہاں،" زویا نے کہا۔ "ہم اپنے بچے کو سچائی اور محبت سکھائیں گے۔"
اور جب ان کا بیٹا پیدا ہوا، انہوں نے اس کا نام "امان" رکھا - امن کے لیے۔
باب 25: مکمل خاندان
ریف - اب ریحان نہیں، کیونکہ اس نے اپنا نام بدل لیا تھا - جیل سے رہا ہو گیا۔ اس نے اپنے جرائم کا اعتراف کیا تھا اور سزا پوری کی تھی۔
ایک دن وہ عارف کے گھر آیا۔
"میں معافی مانگنے آیا ہوں،" ریف نے کہا۔ "میں نے بہت برے کام کیے۔"
عارف نے اسے اندر بلایا۔ "ہم سب غلطیاں کرتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ہم ان سے سیکھیں۔"
ریف نے امان کو دیکھا۔ "وہ خوبصورت ہے۔"
"تم اس کے چچا ہو،" زویا نے کہا۔ "اگر تم چاہو تو۔"
ریف کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ "شکریہ۔ شکریہ کہ تم نے مجھے معاف کر دیا۔"
باب 26: چوٹی پر واپسی
پانچ سال بعد، وہ تینوں - عارف، زویا اور امان - ہمالیہ کی اسی چوٹی پر گئے۔ ریف بھی ساتھ تھا۔
"دیکھو امان،" عارف نے کہا۔ "یہ وہ جگہ ہے جہاں تیری امی اور ابو نے ایک دوسرے سے محبت کا اعتراف کیا تھا۔"
"اور یہ وہ جگہ ہے جہاں ہم نے معاف کرنا سیکھا،" ریف نے کہا۔
زویا نے عارف کا ہاتھ تھاما۔ "اور یہ وہ جگہ ہے جہاں ہم نے سیکھا کہ محبت ہر رکاوٹ کو توڑ سکتی ہے۔"
دس سال اور گزر گئے۔ عارف اور زویا اب بھی ایک دوسرے سے اتنا ہی پیار کرتے تھے۔ امان اب ایک ذہین لڑکا تھا۔ ریف ایک اچھا چچا تھا۔
"تمہیں یاد ہے،" زویا نے کہا، "جب ہم پہلی بار قلعے میں ملے تھے؟"
"ہاں،" عارف نے مسکراتے ہوئے کہا۔ "تم پراسرار لگ رہی تھیں۔"
"اور تم سخت۔"
"اور اب؟"
"اور اب ہم ایک ہیں۔"
اور وہ ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے بیٹھے رہے، ان کی محبت کی کہانی ستاروں کو سناتے ہوئے۔

